A Golden Era: An Interview with a 1970s Pakistani Spinning Industry Engineer


0
Categories : Uncategorized

السلام علیکم، ناظرین! میں ہوں عائشہ ملک، اور آج ہمارے ساتھ ایک ایسی شخصیت موجود ہیں جنہوں نے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی تاریخ کے ایک اہم دور، یعنی 1970 کی دہائی میں، بطور ٹیکسٹائل انجینئر سپننگ کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ہم ان سے اس دور کی صنعت، اس کے چیلنجز، اور ان کے تجربات کے بارے میں جانیں گے۔ سر، آپ کا شکریہ کہ آپ نے وقت دیا۔

انجینئر صاحب (محمد اکرم صاحب): وعلیکم السلام، آپ کا بھی شکریہ۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے بات کرنے کا موقع ملا۔


عائشہ ملک: اکرم صاحب، سب سے پہلے یہ بتائیے کہ 1970 کی دہائی میں پاکستان میں سپننگ انڈسٹری کا منظرنامہ کیسا تھا؟ کیا یہ عروج کا دور تھا؟

محمد اکرم صاحب: جی بالکل۔ 1970 کی دہائی پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری، خاص طور پر سپننگ کے لیے ایک سنہری دور تھا۔ اس وقت ہمارے ملک میں نئی ملیں لگ رہی تھیں، اور پرانی ملیں اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا رہی تھیں۔ ہم نہ صرف ملکی ضروریات پوری کر رہے تھے بلکہ ایک بڑی مقدار میں سوت (yarn) برآمد بھی کر رہے تھے۔ امریکہ، یورپ اور مشرقی ایشیا ہماری بڑی مارکیٹس تھیں۔ کپاس کی وافر پیداوار کی وجہ سے ہمیں خام مال آسانی سے دستیاب تھا۔


عائشہ ملک: اس وقت سپننگ ملوں میں کون سی مشینیں استعمال ہوتی تھیں؟ کیا وہ موجودہ دور کی مشینوں سے بہت مختلف تھیں؟

محمد اکرم صاحب: اس وقت زیادہ تر روایتی رنگ سپننگ مشینیں (Ring Spinning Machines) استعمال ہوتی تھیں۔ بلوروم (Blowroom)، کارڈنگ (Carding)، ڈرائنگ (Drawing)، روونگ (Roving) اور پھر رنگ فریم (Ring Frame)۔ یہ سب مینوئل آپریشنز پر زیادہ انحصار کرتے تھے۔ آج کی طرح کمپیوٹرائزڈ مشینیں نہیں تھیں جو ہر چیز کی نگرانی کریں۔ اوپن اینڈ سپننگ (Open-End Spinning) نئی نئی متعارف ہو رہی تھی، لیکن رنگ سپننگ ہی غالب تھی۔ موجودہ دور کی مشینوں کے مقابلے میں وہ سست تھیں اور ان پر لیبر زیادہ لگتی تھی، لیکن اپنے وقت کے حساب سے بہت جدید تھیں۔


عائشہ ملک: ایک ٹیکسٹائل انجینئر کے طور پر آپ کے بنیادی فرائض کیا ہوتے تھے؟ کیا چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا تھا؟

محمد اکرم صاحب: ایک ٹیکسٹائل انجینئر کے طور پر میرا بنیادی کام مشینوں کی کارکردگی (efficiency) کو یقینی بنانا، سوت کے معیار (quality) کو برقرار رکھنا، اور پیداواری اہداف (production targets) حاصل کرنا تھا۔ اس کے علاوہ لیبر مینجمنٹ بھی ایک اہم پہلو تھا۔ چیلنجز بہت تھے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ، خاص طور پر موسم گرما میں، ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ اس سے پیداوار متاثر ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ مشینری کا ٹوٹ پھوٹ جانا اور سپیئر پارٹس کی دستیابی بھی ایک چیلنج تھا۔ ہم زیادہ تر پرانے سپیئر پارٹس کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کی کوشش کرتے تھے۔ معیار کو برقرار رکھنا بھی ایک مستقل جدوجہد تھی۔


عائشہ ملک: سوت کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے تھے؟

محمد اکرم صاحب: معیار کے لیے ہم ہر مرحلے پر سخت چیک رکھتے تھے۔ کپاس کی خریداری سے لے کر سوت بننے تک ہر اسٹیج پر سیمپلنگ (sampling) ہوتی تھی۔ ہمارے پاس روایتی ٹیسٹنگ لیبز ہوتی تھیں جہاں سوت کی مضبوطی، یکسانیت، اور دیگر خصوصیات کی جانچ کی جاتی تھی۔ ہاتھ سے چھان بین بھی کی جاتی تھی کہ کہیں کوئی سوراخ یا دھاگے کا ٹوٹا ہوا حصہ نہ ہو۔ اس وقت اٹومیٹک ٹیسٹنگ مشینیں کم تھیں، لہٰذا انسانی آنکھ اور تجربہ بہت اہم ہوتا تھا۔


عائشہ ملک: اس وقت کی لیبر فورس کے بارے میں کچھ بتائیں؟ کیا تربیت کا کوئی نظام تھا؟

محمد اکرم صاحب: اس وقت کی لیبر بہت محنتی اور وفادار تھی۔ زیادہ تر لوگ دیہی پس منظر سے آتے تھے اور ان کی وابستگی مل کے ساتھ بہت گہری ہوتی تھی۔ تربیت کا کوئی باقاعدہ تعلیمی نظام نہیں تھا جیسا آج ہے۔ زیادہ تر تربیت ‘آن دی جاب’ (on-the-job) ہوتی تھی۔ ایک سینئر ورکر نئے آنے والوں کو کام سکھاتا تھا۔ ہمیں انجینئرز کو بھی ورکرز کے ساتھ مل کر کام کرنا پڑتا تھا تاکہ وہ مشینری کو سمجھ سکیں اور مسائل حل کر سکیں۔ کبھی کبھی ہڑتالیں بھی ہوتی تھیں، لیکن زیادہ تر مسائل بات چیت سے حل ہو جاتے تھے۔


عائشہ ملک: آپ نے ان سالوں میں ٹیکسٹائل انڈسٹری میں کیا بڑی تبدیلیاں دیکھیں؟

محمد اکرم صاحب: 70 کی دہائی میں سب سے بڑی تبدیلی اوپن اینڈ سپننگ کا تعارف تھا۔ اس سے پیداواری رفتار میں بہت تیزی آئی اور مزدوروں کی ضرورت کم ہوئی۔ اس کے علاوہ ہم نے دیکھا کہ آہستہ آہستہ ملوں میں آٹومیشن کا رجحان بڑھنے لگا، اگرچہ 70 کی دہائی کے آخر تک یہ بہت محدود تھا۔ حکومت کی پالیسیاں بھی بدلتی رہیں جس کا صنعت پر براہ راست اثر پڑتا تھا۔ برآمدات میں اضافہ ایک مثبت تبدیلی تھی جس نے صنعت کو فروغ دیا۔


عائشہ ملک: آج کی ٹیکسٹائل انڈسٹری اور 70 کی دہائی کی صنعت میں آپ کیا بڑا فرق دیکھتے ہیں؟

محمد اکرم صاحب: سب سے بڑا فرق ٹیکنالوجی کا ہے۔ آج کی مشینیں انتہائی خودکار، تیز رفتار اور کمپیوٹر کنٹرولڈ ہیں۔ پہلے معیار کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا، آج مشینوں کی مدد سے یہ بہت آسان ہو گیا ہے۔ لیبر کی ضرورت بہت کم ہو گئی ہے۔ دوسرا بڑا فرق یہ ہے کہ پہلے ہم بنیادی سوت اور سادہ کپڑا بناتے تھے، آج کی صنعت ‘ویلیو ایڈڈ’ مصنوعات پر زیادہ توجہ دیتی ہے، یعنی ڈیزائن، فیشن اور جدید فنشنگ۔ عالمی مقابلہ پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہو گیا ہے۔


عائشہ ملک: آپ نوجوان ٹیکسٹائل انجینئرز کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

محمد اکرم صاحب: میں نوجوانوں سے کہوں گا کہ ٹیکسٹائل ایک بہت وسیع اور دلچسپ شعبہ ہے۔ اب یہ صرف مشینیں چلانا نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، سسٹین ایبلٹی (Sustainability)، اور جدت طرازی کا شعبہ بن چکا ہے۔ ٹیکنالوجی کو اپنائیں، نئی مہارتیں سیکھیں، اور عالمی مارکیٹ کو سمجھیں۔ صرف کتابی علم پر اکتفا نہ کریں، عملی تجربہ حاصل کریں اور ہمیشہ سیکھنے کے لیے تیار رہیں۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں آج بھی بہت صلاحیت موجود ہے۔


عائشہ ملک: اکرم صاحب، آپ نے آج ہمیں جو معلومات فراہم کیں، وہ واقعی قیمتی ہیں۔ آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اپنے قیمتی تجربات ہمارے ساتھ شیئر کیے۔

محمد اکرم صاحب: میرا بھی شکریہ۔